Thanks A Lot

Urdu shero shayri, urdu sex stories, urdu font stories, urdu story
User avatar
seema
Pro Member
Posts: 192
Joined: 23 Feb 2017 22:34

Thanks A Lot

Unread post by seema » 27 Feb 2017 17:24

I am very thankful for Admin for creating this forum for URDU readers .
Hopefully Indo Pak Urdu lovers will enjoy and join the forum and participate in
Urdu Adults and non adults stories and bold shairy
Thanks a lot Dear Admin for the Urdu section .


User avatar
seema
Pro Member
Posts: 192
Joined: 23 Feb 2017 22:34

یہ کیسا نشہ تھا تیرے بازؤں میں

Unread post by seema » 27 Feb 2017 17:34

I am very happy to share here first Urdu story written by myself
یہ کیسا نشہ تھا تیرے بازؤں میں
تیرے گلے لگ کے کھو گئی میں

چیٹنگ ، دھوکہ دہی ، فریب اور بے وفائی کو کہتے ہیں ۔ اپنے پارٹنر یا ہسبنڈ یا وائف
سے بے وفائی کو بھی چیٹنگ کہتے ہیں ۔ چیٹنگ شوقیہ ، حالات کے مرہون منت یا بدنیتی
کی وجہ سے کی جاتی ہے ۔ میں نے بھی چیٹنگ کی اور بار بار کی مگر یہ فیصلہ ہر بار
پڑھ کر آپ ریڈرز نے کرنا ہے کہ کیا واقعی چیٹر ہوں ۔ تو آئیں شروع کریں ۔
یہ 1990انیس سونوے کےشروعات کی بات ہے ہمیں امریکہ آئے ہوئے کچھ زیادہ عرصہ
نہ گذرا تھا ۔ میرے میاں اچھی جاب کرتے تھے اور بڑے موڈرن اور لبرل خیال تھے
۔ اگرچہ عمر میں مجھ سے اٹھارہ سال بڑے تھےمگر رنگین مزاج تھے ۔ میرے ساتھ ان کا رویہ روایتی شوھروں کی بجائے دوستوں جسا تھا
۔ وہ اپنے آفس کی ہر بات مجھ سے شئیر کرتے حتیٰ کہ اپنے آفیئرز سے بھی مجھے باخبر رکھتے
شروع میں تو مجھے کچھ جلن اور رقابت کا احساس ہوا مگر ان کے پیار اور ان کی توجہ نے مجھے مایوس نہ ہونے دیا ۔
ان کی رنگین مزاجی کا مجھے شادی سے پہلے بھی علم تھا مگر شادی ہونی تھی ہوگئی
انہوں نے مجھے ڈھیر سارا پیار اور توجہ دی جس کی بدولت میں ان کی پرستار بن گئی
ان دنوں موبائیل انٹر نیٹ وغیرہ ایجاد نہیں ہوئے تھے ہاں پیجرز آآئے ہوئے تھے ۔ میرے
میاں کو ورندیکھنے کی لت تھی اور ہر شام وہ لطف اندوز ہوتے تھے بعد میں انہوں نے
میری کمپنی کی بھی ڈیمانڈ کی اور میں نے انکا تقاضہ پورا کیا مگر سچی بات یہی ہے کہ
مجھے کچھ اجھا نہیں لگا تھا اس وقت کمپیوٹر نہیں ہوتے تھے کیبل پر ہی دیکھی جاتی
تھیں ایسی مویز یا پھر وی سی آر پر ۔ وہ اچھی کلاسیکل ایروٹک مویز کا ذخیرہ رکھتے
تھے ۔ کچھ ماہ بعد مجھے بھی چسکا لگ گیا اورمیں ان سے بحث کرنے لگ جاتی ۔ کہ
اس سین میں اگر ایسا ہوتا تو زیادہ سُوٹ کرتا ۔ ان کو سوئنگنگ کی مویز زیاد اٹریکٹ
کرتیں اور ہم اس پر کافی بحث بھی کرتے ۔ ہماری سیکس لائف مثالی تھی میں تو بہت خوش تھی ۔ یوں بحث کرتے کرتے ہم دونوں سوئنگنگ کے لئے تیار ہو گئے ۔ سوئنگنگ ایک قسم کی ایسی گیندرنگ کو کہتے ہیں جہاں میاں بیوی دونوں دوسروں کی بیوی ، خاوند کے ساتھ سیکس کریں ۔ خیر میاں نے کوشش کی اور ایک پاکستانی فیملی کو ہم خیال بنا لیا بعد میں معلوم ہوا کہ اس محترمہ کے میرے میاں کے ساتھ پہلے سے ہی مراسم تھے ۔ دونوں مردوں نے کچھ اصول بنائے اور اس کے تحت وائف سواپنگ یعنی بیویوں کا ادل بدل شروع ہوگیا ۔ پہلی بارزرا شاکنگ اور مشکل تھا مگر ایک ماہ میں صرف ایک بار ہی اکٹھا ہونا تھا لہذا کچھ دنوں بعدخجالت کا احساس کم ہوگیا ۔ اب ان مردوں نے تین جوڑے اور تیار کرلئے ۔ ایک پاکستانی اور دو انڈین ۔ اب ہم پانچ جوڑے یعنی تین پاکستانی دو انڈین سب مسلم فیملیز نے ایک قسم کا کلب بنا لیا ۔ جس کے کچھ اصول اور رول بھی بنائے گئے جس میں ایک یہ تھا کوئی بھی انفرادی طور پر کسی سےرابطہ یا جنسی تعلق نہیں رکھے گا ۔ اب ایک ماہ میں دو بار یعنی ہر پندرہ دن بعد پارٹی ہوتی اورہر بار نیا پارٹنر ہوتا ۔ جس دفعہ کسی خاتون کو پیریڈ ہوتے تو ایک ہفتے گیندرنگ لیٹ کر دی جاتی ۔ ہم میاں بیوی خوش باش تھے اور زندگی معمول کے مطابق ہی گذر رہی تھی کہ ایک اور جوڑا بھی شامل ہو گیا وہ بھی پاکستانی تھا ۔
ان کی دوسری بار میں اس نئے مرد کی پارٹنر بنی تو میں نے بہت ہی عجیب سا محسوس کیاجب اس نے مجھے گلے لگایا تو مجھ پر ایک غنودگی سی چھاگئی میری آنکھیں مجھے
یوں محسوس ہوا جیسے سوئی سوئی ہوں ۔ ہم نے کافی وقت گذارا جب باہر آئے تو سب ہی
ہمارا انتظار کر رہے تھے ۔ ہوتا یہ تھا جوڑے کمروں میں چلے جاتے اور سیکس کرتے ایک بار یا دو بار اور پھر وہیں غسل سے فارغ ہو کے باہر ڈائننگ روم میں سب کے ساتھ کھانا یا سنیک وغیرہ انجوائے کر کے اپنے اپنے گھروں میں چلے جاتے ۔ راستےمیں میاں نےنئے پارٹنر کے بارے پوچھا تو میں نے بتایا کہ فنٹاسٹک ہے اچھا لگا مجھے۔ ہم ایک دوسرے پوچھ لیا کرتے کہ انجوائے کیا ہے کہ نہیں۔ ہم اپنے گھرآ کر لیٹ گئے مگر نیند میری آنکھوں سے دور تھی ۔ میرے میاں سمجھے کہ شاید مییں جنسی طور پر مطمئی نہیں ہوں انہوں نےاک بار پھرمجھے سیراب کیا اور سو گئے ۔ مگر میں سو نہیں سکی میں فاروق کے بارے سوچ رہی تھی فاروق نئے ساتھی کا نام تھا ۔ میں سوچ رہی کہ مجھ پر غنودگی کیوں طاری ہوئی
اور میں کئی بار منزل ہوئی مگر کیوں اور کیسے ۔ فاروق نہ تو اتنا ہینڈ سم ہے کہ کوئی لڑکی
گیلی ہوجائے اسے دیکھ کے نہ اسکی باڈی ایتھیلٹک باڈی تھی نہ ہی أس کا اوزار اتنا بڑا
یا موٹا تھا بلکہ مرے میاں کا اس سے بہتر ہے نہ ہی اس نے زیادہ ٹائم لیا۔ میرے میاں اور دوسرے کلب ممبرز سے بھی مطمئن ہوجاتی تھی مگراس کے گلے سے لگ کر جو غنودگی اور نشہ سا محسوس ہوا وہ پہلے کبھی میرے ساتھ نہ ہوا تھا مری آنکھیں مندھ گئی تھیں
اور میں نے اپنے آپ کو أس کے سُپرد کردیا تھا اورأ س نے دل کھول کر میری سُپردگی کو
خراج ادا کیا ۔ اب ہر وقت مجھے اس کا خیال رہتا اور دوبارہ فاروق کے ساتھ میری باری آنے کا امکان تین ماہ بعد کا تھا ۔
کافی لمبی ہوگئی یہ چیٹنگ کہانی میرے خیال میں باقی آئندہ
اپنی رائے سے اگاہ کیجیئے گا ۔ خوش رکھیں اورخوش رہیں


User avatar
seema
Pro Member
Posts: 192
Joined: 23 Feb 2017 22:34

Re: Thanks A Lot

Unread post by seema » 27 Feb 2017 17:40

تین ماہ ایک لمبا عرصہ ہوتا ہے ۔ میں مخمصے میں تھی کہ کہ مجھے پہلے کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا تھا جیسے اس رات ایک نشہ ساغنودگی سی مجھ پر غالب رہی اب سے دوبارہ ملاقات تو اپنی باری پر آسکتی تھی مگر میں بے چین اس لئے تھی ۔ کہ ایک تو یہ
یقین کرنا چاہتی تھی کہ اس رات شا م کے سنیکس میں کوئی نشہ تو نہیں تھا جس کا مجھ یقینن نہیں تھا ۔ پھربھی ایک واہمہ تو تھا ہی ۔ فاروق کے علاوہ آج تک میں نے اپنے آپ کو بے بس نہ پایا تھا ۔ اب ہر دو ہفتہ کی گیدرنگ میں ہم سب اکٹھا تو ہوتے تھے اور گپ شپ بھی ہوتی تھی ۔ مگر میری یا فاروق میں اپنے بارے کوئی بات نہیں ہوئی مگر جب میں باری کے مطابق پارٹنر کےساتھ جا رہی ہوتی تو فاروق کی نظروں میں جوحسرت ہوتی اس سے ظاھر ہوتا کہ اسے بھی میرے ساتھ کچھ أنس ہے ۔ خیر جب ہماری باری آئی تومیں بہت ایکسائٹڈ تھی اور میں نے اس دن خوب اہتمام کیا ۔ جیسے کوئی اپنے محبوب کو مدتوں بعد دیکھنےجا رہا ہو ۔ ہم کمرے میں گئے اور بوس و کنار کے بعد جب قدرتی پیدائشی لباس بدلا تو میری کیفیت پھر وہی ہوئی کہ نہ سوتے نہ جاگتے میں ۔ ایک غنودگی کا عالم اور آسودگی کا احساس ، ایک ہی خواہش تھی کہ یوں ہی یہی بے خودی زندگی بھر طاری رہے ۔ مگر زندگی بھر نہیں پل بھر میں چار گھنٹے گذر گئے اور ایک حسرت لے کر کہ کاش وقت ٹہر جاتا میں بھی دوسرے سب کے ساتھ واپس اپنے گھرآگئی
گھر آنے کے بعد اور بعد میں ایک عجیب سی حالت میں گھر گئی ۔ میں فاروق کے ساتھ گذرے
وقت کو بھولنے کی کوشش میں ناکام ہوچکی تھی اور میری سمجھ سے باھر تھا کہ کیسے میں
فاروق کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گذار سکوں اوریہ کیسے ممکن ہو کہ أس کی کمپنی میں
جس سحر زدہ کیفیت سے میں گذرتی ہوں وہ ابدی ہو جائے ۔ ہر دوہفتہ کے بعد ہماری ملاقات
ہوتی مگر مجھ سے کچھ بات نہ ہوپاتی ، فاروق کی نظریں میرا احاطہ کئے رہتیں مگر یہ معلوم نہ کرپائی وہ کہاں تک مجھ سے متاثر ہے ۔ تین ماہ کسی نہ کسی طرح ترستے ہوئے
نکل ہی گئے اور پھر ایک بار ہمیں یک جا ہونے کا موقع ملا ۔ میں مختص کمرے میں
پہلے چلی گئی اور جب فاروق آئے تو میں دوڑ کر ان کے گلے جا لگی فاروق نے میرا والہانہ
پن دیکھتے ہوئے بڑی گرم جوشی سے اپنی بازووں میں سمیٹ لیا ۔ میں جذبات کی وجہ سے
آنسو نہ روک پائی اور فاروق کے پوچھنے پر پہلی بار اپنی کمزوری کا ذکر کیا ۔ ہم نے اس
شام صرف باتوں میں گذارا میں اس کے چھاتی کے بالوں سے کھیلتی رہی اور وہ میرے جسم
پر ہاتھ پھیرتا ر ہا ہم دونوں نے ڈھیر ساری باتوں کے علاو گیندرنگ کے علاوہ بھی ملنے کا
پروگرام بنایا ۔
أس رات واپسی پر میں بہت خوش تھی میاں نے کہا لگتا ہے اچھا ٹائم گذرا ، میں نے
کہا بہت اچھا اور آپ کا؟ کہنے لگے ناٹ بیڈ ، ڈیٹس گریٹ ، میں نغمائی ۔
دوسرے دن میاں کے آفس جانے کے بعد میں اس جگہ پہنچ گئی جہاں سے فاروق نے پروگرام کے مطابق مجھے پک کرنا تھا ۔ أس دن پہلی بار میں نے چییٹ کیا اور اس کے بعد نہ جانے کتنی بار جب بھی آسانی ہوئی ہم نے موقع سے فائدہ أٹھایا ۔ مگر دوسال بعد فاروق واپس
پاکستان چلے گئے وہ سیاسی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے اور پاکستان میں حالات ان کی
پارٹی کے لئے موافق ہوگئے تھے ۔ ان دو سالوں کے اندر ہی ہمارا وہ کلب بھی ختم ہو گیا تھا
اور حالات پھر پُرانی ڈگر پرچلے گئے ۔ آج بھی اگر کوئی فاروق جیسی شخصیت ملے
تو میں ضرور چیٹنگ کرونگی اور میں اپنے آپ کو أس کو سُپرد کرنے میں زرا بھی
نہیں جھجھکوں گی